ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 31
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر رہے تھے اور بہت سے لو گوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے۔آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس پر لو گوں کو بھڑ کا ئیں۔پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اُس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔اس پر آپ نے بھی اُس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔مولویوں نے شور مچادیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے بلکہ جب شفا ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔لیکن جوش میں بھرے ہوئے لوگ کب رُکتے ہیں۔شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرونہ ہو سکا۔آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔اُس کے نظم پڑھنے پر لوگ خاموش ہو گئے۔تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچادیا اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہو گئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی رو اُن سے روکے نہ رکتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔جب پولیس سے اُن کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی۔اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فور آسپاہی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔پولیس لوگوں کو اس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی، آپ اُس میں سوار ہونے کے لیے تشریف لے چلے۔آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لو گوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار ہو کر چلے ہیں۔اس پر جو لوگ لیکچر ہال سے باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سونٹا آپ کو مارا۔ایک مخلص مرید پاس کھڑا تھا وہ جھٹ آپ کو بچانے کے لیے آپ کے اور حملہ کرنے والے کے درمیان میں آ گیا۔چونکہ گاڑی کا دروازہ کھلا تھا سو نٹا اُس پر رُک گیا اور اُس شخص کے بہت کم چوٹ آئی ورنہ ممکن تھا کہ اُس شخص کا خون ہو جاتا۔آپ کے گاڑی میں بیٹھنے پر گاڑی چلی لیکن لو گوں نے پتھروں کا مینہ 31