ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 30 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 30

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کو کھانے دی۔خواجہ محمد یوسف صاحب پلیڈر علی گڑھ نے حضرت سے آپ کے عقائد لکھائے اور سنانے چاہے لیکن چونکہ مولویوں نے لو گوں کو یہ سنا رکھا تھا کہ یہ شخص نہ قرآن کو مانتا ہے نہ حدیث کو نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔انہیں یہ غریب گھل جانے کا اندیشہ ہوا، اس لیے لوگوں کو اُکسادیا۔پھر کیا تھا ایک شور برپا ہو گیا اور محمد یوسف کو وہ کاغذ سنانے سے لوگوں نے باز رکھا۔افسر پولیس نے جب دیکھا کہ حالت خطر ناک ہے تو پولیس کو مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا اور اعلان کیا کہ کوئی مباحثہ نہ ہو گا۔لوگ تتر بتر ہو گئے۔پولیس آپ کو حلقہ میں لے کر مسجد سے باہر گئی۔دروازہ گاڑیوں کے انتظار میں کچھ دیر ٹھہر نا پڑا۔لوگ وہاں جمع ہو گئے اور اشتعال میں آ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔اس پر افسران پولیس نے گاڑی میں سوار کرا کر آپ کو روانہ کیا اور خود مجمع کے منتشر کرنے میں لگ گئے۔(ماخوز از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی صفحہ 27) اس کے بعد اکتوبر 1905ء کو آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریباً پندرہ دن رہے۔اُس وقت دہلی گوپندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہوتا رہا۔اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک لیکچر نہ دیا لیکن گھر پر قریباً روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دو اڑھائی سو سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق تھا۔اس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لیے آپ کو لدھیانہ میں ٹھہرایا اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیر و خوبی سے ہوا۔وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفد پہنچا کہ آپ ایک دو روز امر تسر بھی ضرور قیام فرمائیں جسے حضرت نے منظور فرمایا اور لدھیانہ سے واپسی پر امر تسر میں اُتر گئے۔وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔امر تسر سلسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زور ہے۔اُن کے اُکسانے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے۔جس دن آپ کا لیکچر تھا اُس روز مخالفین نے فیصلہ کر لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے جسے 30