ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 292
ہ کہ قانون پاس کر دینا چاہیے کہ ہر ایک مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بے شک بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہو گی۔اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری ہو گی اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیر و اس بات۔پر ناخوش ہوں کہ اُن کو دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لو گوں کو روک دیا جائے جو خود اُن کے مذہب پر پڑتے ہوں۔یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے ہی مذہب میں موجود ہوں۔اگر یہ بھی ناپسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک فرقہ سے دریافت کر کے اس کی مسلمہ کتب مذہبی کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ اس مذہب پر ان کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ جب اعتراضات کی بنیاد صرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پیرو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر اُن کے رُو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ باہمی بغض و عداوت ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔۔(سیرت مسیح موعود از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 42 - 43) طاقت ہونے کے باوجود در گزر کرنا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے۔آپ نہایت رؤف رحیم تھے۔سخی تھے۔مہمان نواز تھے۔اشجع الناس تھے۔ابتلاؤں کے وقت جب لو گوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔کسی کی دل آزاری کو نہایت ہی ناپسند فرماتے تھے۔اگر کسی کو بھی ایسا کرتے دیکھ پاتے تو منع کرتے۔۔۔ا ایک مرتبہ دشمن پر مقدمہ میں خرچہ پڑا۔تو آپ نے اس کی درخواست پر اُسے معاف کر دیا۔ایک فریق نے آپ کو قتل کا الزام لگا کر پھانسی دلانا چاہا مگر حاکم پر حق ظاہر ہو گیا اور اس نے آپ کو کہا کہ آپ ان پر قانونا دعویٰ کر کے سزا دلا سکتے ہیں مگر آپ نے در گزر کیا۔آپ کے وکیل نے عدالت میں آپ کے دشمن پر اس کے نسب کے متعلق جرح کرنی چاہی۔مگر آپ نے اُسے روک دیا۔292