ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 291 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 291

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام جس کام کے لئے آپ لو گوں کے عقیدوں کے موافق مسیح ابن مریم آسمان سے آئے گا یعنی یہ کہ مہدی سے مل کر لو گوں کو جبراً مسلمان کرنے کے لئے جنگ کرے گا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو اسلام کو بدنام کرتا ہے۔قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر درست ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لا اكر ا لا فِی الدِّین یعنی دین میں جبر نہیں ہے۔پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیونکر دیا جائے گا یہاں تک کہ بجز اسلام یا قتل کے جزیہ بھی قبول نہ کرے گا۔یہ تعلیم قرآن شریف کے کس مقام، اور کس سیپارہ اور کس سورۃ میں ہے۔سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لو گوں سے آنحضرت صلی علیم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبر أ شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی ان لو گوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ ج (الج: 39) یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبر أ روکتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی۔بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی علی یم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 1 صفحہ 747 - 748) میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ جیسے بین المذاہب امن کے اصول بیان فرمائے 1897ء اور 1898ء میں ہندوستان میں مذہبی بحث مباحثہ کے سبب حالات سخت خطر ناک ہو رہے تھے گورنمنٹ نے سٹڈیشن کا قانون پاس کیا تھا اس کے باوجود ہندوستان میں فساد کے خطرات بڑھ رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ستمبر 1897ء میں ایک میموریل تیار کر کے لارڈ ایلجن بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں ارسال کیا اس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ قانون سٹڈیشن میں مذہبی سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہیے اور اس کے لیے آپ نے تین تجاویز بھی پیش کیں۔291