ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 284
معاہدات اور ان کی پاسداری غیر مسلموں سےم عاہدوں اور ان کی پاسداری کے لئے بھی آپ کا اسوہ مثالی تھا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر شرائط لکھنے میں سہیل بن عمرو کے کہنے پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ اور محمد رسول اللہ کٹوا کر محمد بن عبد اللہ لکھوایا۔حضرت علیؓ نے جو معاہدہ لکھ رہے تھے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی نیم میں تو آپ کے نام کے ساتھ یہ لفظ کبھی نہیں مٹاؤں گا۔اس پر آنحضرت صلی الیم نے نشان دہی کروا کر یہ لفظ خود کاٹ دئے۔( بخاری کتاب المغازی ) ابھی معاہدہ لکھا نہ گیا تھا کہ کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو کا اپنا بیٹا حضرت ابو جندل جو مکہ میں مسلمان ہونے کے جرم میں قید و بند جھیل رہا تھا۔مسلمانوں کے حدیبیہ پہنچنے کی خبر سن کر گرتے پڑتے اس حال میں وہاں آن پہنچے کہ پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر زخموں کے نشان۔آ کر پناہ کے طالب ہوئے۔مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔لیکن سہیل معترض ہوا اور کہا کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔آنحضرت صلی الم نے اس سے اتفاق کیا۔اس پر حضرت ابو جندل نے عرض کیا:، کیا آپ مجھے پھر ان کافروں کے حوالے کر دیں گے، جنہوں نے مجھے اتنی تکلیفیں پہنچائی ہیں اور ظلم کئے ہیں؟ آنحضرت علی ایم نے فرمایا: ابو جندل! صبر کرو اللہ تمہارے اور دیگر مظلوموں کے لئے کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔اب صلح ہو چکی ہے اور ہم ان لو گوں سے اپنا عہد نہیں توڑ سکتے۔، (سیرت ابن ہشام اردو جلد دوم صفحہ 378 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور) میثاق مدینہ انسانی اقدار اور باہمی تعاون کی خاطر کیا گیا تھا اس میں فریق مسلمان، یہود اور مشرکین تھے اس کو حضرت صلی ا ہم نے مدینہ کی پہلی مسلم حکومت کے آئین کے طور پر منظور فرمایا اس معاہدے میں غیر مذاہب کے لوگوں کو مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم ایک ملت قرار دیا گیا۔سب کو اپنے عقائد پر رہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا۔کسی فریق کی جنگ کی صورت میں مسلمان غیر مسلموں کی مدد کریں گے اور غیر مسلم، مسلمانوں کی اعانت کریں گے۔یہود کے تعلقات جن قوموں سے دوستانہ ہوں گے ان کے حقوق مسلمانوں کی نظر میں یہود کے برابر ہوں 284