ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 272 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 272

سنا گیا ہے کہ آپ کی والدہ کو بھی آپ سے بہت محبت تھی اور سب گھر والے آپ کو ماں کا محبوب بیٹا سمجھتے تھے۔(سلسلہ احمدیہ جلد اول) آپ کے والد صاحب کی طرف سے ایک دفعہ پھر ریاست کپور تھلہ کے محکمہ تعلیم کا افسر بنانے کی تجویز ہوئی لیکن آپ نے نامنظور کر دیا اور اپنے والد صاحب کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کو ترجیح دی۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔قادیان سے دو کوس دور واقع گاؤں کے ایک ضعیف العمر نمبر دار ہندو جاٹ اور میاں جان محمد اور گلاب نجاریہ اور دوسرے بہت سے لوگوں کا متفقہ بیان ہے کہ: مرزا غلام احمد اپنے بچپن کے زمانہ سے اب تک جو چالیس سال سے زیادہ ہوں گے نیک بخت اور صالح تھے اکثر گوشہ نشین رہتے تھے۔سوائے یاد الہی اور کتب بینی کے آپ کو کسی سے کوئی کام نہ تھا۔۔۔اپنے والدین کے دنیاوی معاملات و امور میں فرمانبردار اور ان کے ادب اور احترام میں فرو گذاشت نہیں کرتے تھے۔1876ء میں آپ کے والد صاحب مختصر بیماری کے بعد وفات پا گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ۔والدین کے لئے دعا ربِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا ) (بنی اسرائیل: 25) کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تھی۔رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِينَ إِلَّا تَبَارًا ) (نوح: 29) اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور اسے بھی جو بحیثیت مومن میرے گھر میں داخل ہوا اور سب مومن مردوں اور سب مومن عورتوں کو اور تو ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھانا۔رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي 272