ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 264 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 264

الله سة م الله حضرت حلیمہ سعدیہ سے پہلے حضور صلی اللی نام کو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔حضور صلی لی نام اور حضرت خدیجہ اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔۔۔حضور صلی ال یہ ہجرت کے بعد بھی اس کے حالات سے خبر رکھتے تھے اور کپڑوں وغیرہ سے مدد فرماتے رہتے تھے۔(طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ 109 بیروت 1960ء) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ حضرت اقدس مسیح موعود کے والدین کی تکریم کے متعلق ارشادات الله قرآن پاک کی تعلیم، آنحضرت صلی یہ کلم کے ارشادات اور عملی نمونے کے اتباع میں آپ کے شاگرد دخل اور عکس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام والدین کے احترام خدمت اور اطاعت کے بارے میں فرماتے ہیں: اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہد خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ ”جو شخص حضرت اقدس مسیح موعود کا ارشاد ہے: (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19) پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی یہ ہے کہ والدہ کی عزت کرے۔اویس قرنی کے لئے بسا اوقات رسول الله ل ا ل ل لم یمن کی طرف منہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خداصلی للی نیم موجود ہیں، مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے۔صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔مگر الله میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی علیم نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی۔یا اولیس کو یا مسیح کو۔یہ ایک عجیب بات ہے، جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمر ان سے ملنے کو گئے، تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ایک وہ ہیں جو پیسہ پیسہ کے لئے مقدمات کرتے ہیں اور 264