ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 242 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 242

عزیز رشتے داروں اور اہل مکہ کی گواہی کا سامان اس طرح ہوا کہ : ”جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ” وَاَنْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: 215) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور بیدار کر کے احکام اترے تو آنحضرت صلی می نام کوہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے قریش! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پہ حملہ کرنے کو تیار ہے۔تو کیا تم میری بات کو مانو گے۔بظاہر یہ ایک بالکل ناقابل قبول بات تھی مگر سب نے کہا کہ ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر سنو، میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔“ حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: (سیرت خاتم النبیین مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ 128) ”دوسری خوبی جو شرط کے طور پر مامورین کے لئے ضروری ہے وہ نیک چال چلن ہے کیو نکہ بد چال چلن سے بھی دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہ خوبی بھی بدیہی طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان کفار کو کہہ دے کہ اس سے پہلے میں نے ایک عمر تم میں ہی بسر کی ہے پس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں کس درجہ کا امین اور راستباز ہوں۔اب دیکھو کہ یہ دونوں صفتیں جو مر تبہ نبوت اور ماموریت کے لئے ضروری ہیں یعنی بزرگ خاندان میں سے ہونا اور اپنی ذات میں امین اور راستباز اور خدا ترس اور نیک چلن ہونا قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کمال درجہ پر ثابت کی ہیں اور آپ کے اعلیٰ چال چلن اور اعلیٰ خاندان پر خود گواہی دی ہے اور اس جگہ میں اس شکر کے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فرمایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو باوجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے ایک ذرہ عیب گیری کر سکو۔پھر تم سوچو کہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اطہر اور انفس خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے روبروئے گذری۔گواہی دے رہی ہے جو افترا اور دروغ بافی اِس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جبکہ آسمانی نشان وہ دِکھلا رہا 242