ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 241
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تم کچھ تو عقل کرو۔کیا ایک سچا آدمی جھوٹی تعلیم دے سکتا ہے۔سچا آدمی تو سب سے پہلے اس جھوٹی تعلیم کے خلاف کھڑا ہو گا۔پھر ایک اور موقع پر آپ کے صادق ہونے پر دشمن کی گواہی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابو سفیان بن حرب نے بتایا کہ جب وہ شام کی طرف ایک تجارتی قافلے کے ساتھ گیا ہوا تھا تو ایک دن شاہ روم، ہر قل نے ہمارے قافلے کے افراد کو بلا بھیجا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت وہ کچھ سوالات پوچھ سکے۔شہنشاہ روم کے دربار میں ہر قل سے اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا کہ اس نے مجھ سے کچھ سوال کئے۔ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کیا دعویٰ سے پہلے تم لوگ اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے ؟ میں نے جواباً کہا کہ نہیں۔اس پر ہر قل نے ابوسفیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تو نے میرے اس سوال کا جواب نفی میں دیا تو میں نے سمجھ لیا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ لو گوں پر تو جھوٹ باندھنے سے باز رہے مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ہر قل نے کہا مَاذَا يَأْمُرُكُم محمد آپ کو کس چیز کا حکم دیتے ہیں۔ابو سفیان نے کہا وہ کہتا ہے، اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہی معبود ہے اور اس کا کسی چیز میں شریک نہ قرار دو اور ان باتوں کو جو تمہارے آباؤ اجداد کہتے تھے چھوڑ دو اور وہ ہمیں نماز قائم کرنے، سچ بولنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔تب ہر قل نے کہا کہ جو تو کہتا ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر عنقریب میرے قدموں کی اس جگہ کا بھی وہی مالک ہو جائے گا۔(بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبر (7) قریش نے ایک دفعہ سردار عتبہ کو قریش کا نمائندہ بنا کر رسول کریم صلی اللی ملک کی خدمت میں بھجوایا۔اس نے کہا آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں۔آپ کی جو بھی خواہش ہے ہم پوری کر دیتے ہیں، آپ ان باتوں سے باز آئیں۔حضور تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورۃ حم فضلت کی چند آیات تلاوت کیں۔جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں تو اس پر عتبہ نے آپ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور خوف کے مارے اٹھ کر چل دیا۔اس نے قریش کو جا کر کہا کہ تمہیں پتہ ہے کہ محمد کی یکم جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آ جائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔تمام سردار یہ سن کر خاموش ہو گئے۔( السيرة الحلبية از علامه برهان الدین باب عرض قريش عليه اشياء من خوارق العادات وغير العادات۔۔۔) 241