ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 229
آپ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُقی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللهم صل وسلم وبارك عليه و اله بعد دهمه و غمه و حزنه لهذه الامة وانزل عليه انوار رحمتك الى الابد۔بركات الدعاء روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 10 - 11) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ اس سے عافیت مطلوب کرنا محبوب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا اس ابتلا کے مقابلے پر جو آچکا ہے اور اس کے مقابلہ پر بھی جو ابھی نہ آیا ہو، نفع دیتی ہے۔اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح بالله ) اس رحمت عالم کا انسانیت پر بڑا احسان ہے کہ بندے کو رب سے براہ راست دعا مانگنے کے آداب و الفاظ سکھا دئے۔دعا کا طریق سکھایا کہ دعا حمد و ثنا اور درود شریف سے شروع کی جائے۔اس بات کا یقین ہو کہ اللہ قادر مطلق ہے حضور قلب سے کی جائے دعا کے ساتھ صدقہ بھی دیں رزق حلال کھائیں۔یقین کامل ہو کہ دعا سنی جائے گی اور۔صبر سے دعا جاری رکھیں۔اپنی ساری دعاؤں سے رہتی دنیا تک استفادہ کے لئے ایک جامع دعا سکھائی: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَعَدَكَ مِنْهُ نَبِيَّكَ مُحَمَّد ، ونعوذ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّد وَانْتَ 229