ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 228 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 228

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔(اور بے ساختہ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ! تو نے ہر گز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو۔پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے ہم آنحضرت علی ایم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے جب ہم عَزوَراء مقام پر پہنچے تو آنحضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ دیر دعا کی۔پھر حضور سجدہ میں گر گئے اور بڑی دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔پھر سجدہ میں گر گئے۔آپ نے تین دفعہ ایسا کیا۔پھر آپؐ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعامانگی تھی اور اپنی امت کیلئے شفاعت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دے دی۔میں اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کیلئے سجدہ میں گر گیا اور سر اٹھا کر پھر اپنے رب سے امت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید ایک تہائی امت کی شفاعت کی اجازت فرمائی۔پھر میں شکرانہ کا سجدہ بجا لایا۔پھر سر اٹھایا اور امت کیلئے اپنے رب سے دعا کی۔تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تیسری تہائی کی بھی شفاعت کیلئے مجھے اجازت عطا فرما دی اور میں اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کے لئے گر گیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ: (ابوداؤ د كتاب الجهاد باب في سجود الشكر ) آنحضرت صلی علیم ایک دن مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رُو ہو کر سجدے میں چلے گئے۔بہت لمبا سجدہ کیا۔اتنا لمبا کہ میں آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔بلکہ یہاں تک میری پریشانی بڑھی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی ہے۔اس پریشانی کی حالت میں میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ سجدہ سے اٹھ بیٹھے۔آپ نے فرمایا کہ کون ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں عبدالرحمن ہوں۔پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کا یہ سجدہ اتنا زیادہ لمبا ہو گیا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہو گئی۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور یہ خوشخبری دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا اس پر میں رحمتیں نازل کروں گا اور جو سلامتی بھیجے گا اس پر میں سلامتی نازل کروں گا۔اس بات پر میں سجدہ شکر بجالا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہا تھا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 512-513 حدیث نمبر : 1664 مسند عبدالرحمن بن عوف مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998ء) 228