ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 215 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 215

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام (اونٹنی) کا مالک کہاں ہے؟ تو اُس کے مالک نے جواب دیا: یا نبی اللہ ! میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔یا اسے باندھ کر رکھ (اور چارہ ڈال) یا اسے کھلا چھوڑ دے تا کہ وہ خود چارہ وغیرہ کھا لے۔مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 196 - 197) آپ نے جانوروں کو گالی دینے سے بھی منع فرمایا جانور تو سنتے نہیں اپنا اخلاق خراب ہوتا ہے ایک دفعہ ایک انصاری نے اونٹ کی ضد پر اسے بددعا دے کر لعنت ڈالی آپ نے فرمایا اب سامان وغیرہ اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے خالی چھوڑ دو اب یہ ہمارے ساتھ نہ چلے اب یہ لعنت والی اونٹنی ہو گئی ہے۔(مسلم کتاب البر والصله ) بکری پر رحم کے ثواب میں اللہ کا رحم ملے گا کتنی بڑی نوید عطا فرمائی تا کہ جانوروں سے نرمی کا سلوک ہو۔ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ ! جب میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اُس پر رحم آتا ہے، یا یہ کہا کہ مجھے بکری کو ذبح کرنے سے اُس پر رحم آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھے بکری پر رحم آتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے گا۔“ ایک شخص بکری کو کان سے پکڑ کر کھینچ رہا تھا دیکھا تو فرمایا: ”اس کا کان چھوڑ دو گردن سے پکڑ لو“ ابن ماجه کتاب الذبائح باب (3) آپ کی رحمت و شفقت کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔جانور ہے ذبح کرنا ہے چھری سے گلا کاٹنا ہے اس کو تکلیف تو ہو گی آپ نے یہ سوچا کہ اس تکلیف کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے، چھری تیز نہ ہوئی تو ٹھیک سے گلا نہیں کٹے گا اور جانور تڑپتا رہے گا۔آپ صلی الیم فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو نرمی اور مہربانی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ اگر تم کسی جانور کو مارنے لگو تو اس میں بھی نرمی اور رحم دلی دکھاؤ جب کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے اور رحمدلی کے طریق سے ذبح کرو، مثلاً تم اپنی چھری خوب تیز کرلو اور اس طرح سے اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔“ (مسلم کتاب الصيد والذبائح باب الامر باحسان الذبح ) جانور کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے آپ نے تین آدمیوں کو اکٹھا سوار ہونے سے منع فرمایا۔اسی طرح کمزور جانوروں پر بھی سواری پسند نہ فرمائی۔انہیں گرم سلاخوں سے چہرے ناک وغیرہ پر داغنے سے 215