ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 214
جا رہا تھا کہ اُسے سخت پیاس لگی، اُس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور اس سے پانی پیا وہاں پر ایک کتا پیاس سے بے تاب گیلی مٹی چاٹ رہا تھا اُس شخص نے سوچا اس کتے کی بھی پیاس سے وہی حالت ہو رہی ہے جو (کچھ دیر قبل) میری ہو رہی تھی، پس وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھرا، پھر اُس کو منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اُس کی یہ نیکی قبول کی اور اُس کی مغفرت فرما دی“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا ان جانوروں کی وجہ سے بھی ہمارے لئے اجر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر ذی روح اور جاندار چیز کے ساتھ نیکی اور احسان کا اجر ملتا ہے۔“ ( سنن ابو د او د كتاب الجهاد باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم ) اونٹوں کے ذکر میں بڑا دلچسپ واقعہ ہے خود اونٹ نے نبی رحمت سے فریاد کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا۔جب اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے اور اُس کے سر پر دست شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس اونٹ کا مالک کون ہے، یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ میرا ہے۔آپ نے فرمایا: کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔( صحيح البخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء ) آپ کی نظریں مصیبت زدہ کو پہچان لیتی تھیں ایک دفعہ آپ کا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی کمر اُس کے پیٹ سے لگی ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا: ”اِن بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، جب یہ تندرست ہوں تو ان پر سوار ہوا کرو اور جب یہ تندرست نہ رہیں تو انہیں کھا لیا کرو۔“ (سنن ابو داود كتاب الجهاد باب ما يومر به من القيام على الدواب والبهائم ) ایک اور واقعہ یوں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی ال نیلم نے نماز ظہر ادا فرمائی تو ایک اونٹنی بندھی ہوئی دیکھی اور فرمایا: اس سواری کا مالک کہاں ہے؟ تو کسی نے جواب نہ دیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور نماز ادا فرمائی۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹنی کو بدستور بندھا ہوا پایا۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سواری 214