ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 205 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 205

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ایک دفعہ ان سے فرمانے لگے کہ عائشہ! میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔حضرت عائشہ نے عرض کیا وہ کیسے؟ فرمایا: جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اپنی گفتگو میں رب محمد (صلی ) کہہ کر قسم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو رب ابراہیمؑ کہہ کر بات کرتی ہو۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہاں یا رسول اللہ ! یہ تو ٹھیک ہے مگر بس میں صرف زبان سے ہی آپ مالی لی ایم کا نام چھوڑتی ہوں۔(دل میں تو آپ ہی آپ ہیں) (بخاری کتاب النکاح باب غيرة النساء و وجد هن ) ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت صلی اللی علم سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کے لیے آگے بڑھے کہ خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔آنحضرت یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی متوقع سزا سے حضرت عائشہ کو بچا لیا۔جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو رسول کریم حضرت عائشہ سے ازراہ تفنن فرمانے لگے۔دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو آنحضرت علی اہل علم کے ساتھ حضرت عائشہ ہنسی خوشی باتیں کر رہی تھیں۔حضرت ابو بکر کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کرلو۔(ابوداؤ د باب الادب ) اظہار تعلق الفاظ کا محتاج نہیں ہو تا محبت کرنے والے محسوس کر لیتے ہیں اور لطف لیتے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں حضور گوشت کی بڑی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔میں کئی دفعہ پانی پی کر برتن حضور کو پکڑا دیتی تھی۔حضور وہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔( ابوداؤ د كتاب الطهارة ) یہی والہانہ پیار تھا کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے فرمایا آنحضور کو اختیار تھا کہ بیویوں میں سے آپ جس کو چاہیں اس کی باری مؤخر کر دیں اور جسے چاہیں اپنے ہاں جگہ دے دیں۔پھر بھی زندگی میں ایک دفعہ بھی 205