ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 204 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 204

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی ہو۔اس پر حضرت عائشہ آپ کی یاد سے بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ آنحضور صلی الم کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضور صلیالم ایک رات میرے پاس تشریف لائے۔میرے ساتھ میرے بستر میں لیٹے پھر آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کر لوں۔میں نے کہا خدا کی قسم! مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے اور مشکیزہ سے وضو کیا۔نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو آپ کے سینہ پر گرنے لگے۔نماز کے بعد آپ دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے دائیں رخسار پر تھا۔آپ نے پھر رونا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔آپ اسی حالت میں تھے کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلال آئے جب انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گذشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔( تفسیر روح البیان زیر تفسیر سوره آل عمران آیت 191 - 192، ماخوذ از خطبه جمعه فرمودہ 18 فروری 2005ء) آپ کی ایم نے معمولی نزاع میں بھی حضرت عائشہ کو ثالثیت کا حق دیا اور ان کی پسند سے ثالث مقرر کیا۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم کے ساتھ ایک دفعہ کچھ تکرار ہو گئی آپ نے مجھ سے پوچھ کر حضرت ابو بکر کو ثالث بنایا۔آپ نے بات سن کر ذرا سختی سے مجھ سے بات کی تو رسول کریم ملی ملی یکم فرمانے لگے اے ابو بکڑ ا ہم نے تجھے اس لیے تو نہیں بلایا تھا۔حضرت ابو بکڑ نے ایک کھجور کی چھڑی لی اور مجھے مارنے کو دوڑے۔میں آگے آگے بھاگی اور جا کر رسول اللہ سے چمٹ گئی۔رسول کریم نے حضرت ابو بکر سے کہا میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اب آپ چلے جائیں۔ہم نے آپ کو اس لیے نہیں بلایا تھا۔جب وہ چلے گئے تو میں رسول اللہ سے الگ ہو کر ایک طرف جابیٹھی۔آپ فرمانے لگے عائشہ میرے قریب آجاؤ۔میں نہیں گئی تو آپ مسکرا کر فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم نے میری کمر کو زور سے پکڑ رکھا تھا اور خوب مجھ سے چمٹی ہوئی تھیں۔(خلاصه از ازواج النبی صلى الله علم از محمد بن یوسف الصالحى مطبوعہ بیروت بحواله السمطان ه بیروت بحواله السمطا الثمین صفحہ 50) 204