ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 201
فرماتے۔ساری زندگی میں کبھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ اٹھایا، نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ازواج مطہرات میں سے کوئی بیمار ہو جاتیں تو آپ بذات خود ان کی تیمار داری فرماتے اور ہر قسم کا خیال رکھتے۔جسمانی طور پر بھی آرام کا خیال رکھتے تھے ایک موقع پر اونٹنی چلانے والے نے بہت تیزی کے ساتھ اونٹنیوں کو چلایا تو آپ نے فرمایا شیشہ ہے یعنی صنف نازک ہے احتیاط سے۔مخصوص ایام میں بھی خیال رکھتے۔۔اگر رات کو دیر سے گھر آتے تو کسی کو زحمت دیے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود تناول فرما لیا ، کرتے تھے۔اگر کوئی بیوی آرام کر رہی ہو تو قدم بھی آہستہ رکھتے کہ نیند خراب نہ ہو۔۔جنگوں میں جاتے ہوئے بیویوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی فرماتے تھے اور جس کا قرعہ نکلتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے۔۔آپ نماز عصر کے بعد سب ازواج مطہرات کو اس بیوی کے گھر بلا لیتے جس کی باری ہوتی اس طرح سب سے روزانہ ملاقات ہو جاتی حال احوال دریافت فرمالیتے اور دینی تربیت فرماتے۔۔آپ کی کوئی بیوی کبھی آپ سے ناراض نہ ہوئی حتیٰ کہ سورت الاحزاب کی آیت 29 کے مطابق جب آپ نے دنیوی متاع لے کر رخصت ہونے کا اختیار دیا تو کسی نے بھی جدائی پسند نہ کی۔۔کھانے میں کبھی عیب نہ نکالتے جو میسر ہوتا صبر شکر سے کھالیتے۔انفرادی طور پر ازواج مطہرات کے ساتھ آپس میں تعلق کا منفرد انداز تھا۔جنت نظیر حجروں میں محبت کے دریا رواں تھے۔سکینت اور سکون کا دور دورہ تھا۔میٹھے میٹھے واقعات کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ مکہ کی مالدار تاجر خاتون تھیں۔تین دفعہ شادی ہوئی تھی بچے بھی تھے۔چالیس سال کی عمر میں پچیس سال کے جوان محمد مصطفی صلی اللی علم کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر شادی کی پیش کش کی۔شادی ہوئی، دولھا کا اپنا کوئی مکان نہیں تھا۔دلھن کے گھر آگئے۔جہاں دھن دولت نو کر چاکر کی ریل پیل تھی۔اس خیال سے کہ شوہر کو یہ محسوس نہ ہو کہ ان کی مالی حیثیت کم ہے۔اپنی ساری متاع آپ کے حوالے کر دی اور اس پر کل اختیار بھی دے دیا۔آپ ایک سادہ مزاج غریبوں کے دکھ درد کو سمجھنے والے انسان تھے۔ساری دولت، سارا سامان مستحقین میں تقسیم کر دیا۔سارے نوکروں کو آزاد 201