ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 200
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 29 میاں بیوی کا رشتہ، پیار محبت اور احساس کا سچا رشتہ آنحضرت صلی الله علم فرماتے ہیں: تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اپنے اہل و عیال سے سلوک اچھا ہے اور میں تم میں سے اپنے اہل سے اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے سب سے بہتر ہوں۔“ میاں بیوی دن رات ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی شخصیت کے نہاں در نہاں پہلوؤں سے واقف ہو جاتے ہیں۔خوبیوں اور خامیوں کے رازدار ہو جاتے ہیں کچھ چھپا نہیں رہتا۔آنحضور کی اہلی زندگی پر نظر ڈالیں تو آپس کے اعتماد پیار اور احساس کے ایسے پیارے دل لبھانے والے نظارے ملتے ہیں کہ دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ واقعی آپ اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے سب سے بہتر تھے۔ایک مثالی شوہر تھے۔اسی وجہ سے آپ کی ازواج مطہرات بھی آپ سے بے حد محبت کرتی تھیں۔سب ازواج مطہرات سے یکساں سلوک کے چند نکات پیش ہیں۔جو مستند احادیث سے اخذ کئے ہیں۔۔سب ازواج مطہرات کے گھروں میں مسکراتے ہوئے داخل ہوتے۔نرمی سے کلام فرماتے، عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے۔۔ازواج مطہرات کا حق ادا فرماتے نان و نفقہ کا بطور خاص اہتمام فرماتے تھے حتی کہ وفات کے بعد بھی خرچ دیتے رہنے کا اہتمام فرماتے۔۔گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے اپنے ذاتی کام خود کر لیا کرتے تھے آپ اپنے کپڑے خود سی لیتے تھے، جوتے ٹانک لیا کرتے تھے اور گھر کا ڈول وغیرہ خود مرمت کر لیتے تھے۔بکری خود دوہ لیتے تھے، جانوروں کو چارہ ڈالتے، مل کر کام کرا لیتے۔آٹا پسوا دیتے، خود ہی سودا سلف لاتے اور ضرورت کی چیزیں ایک کپڑے میں باندھ کر اٹھا لاتے۔ازواج مطہرات کے رشتہ داروں سے بھی اچھا سلوک فرماتے ان کے پہلے بچوں کو اپنا بچہ کہتے۔۔ازواج مطہرات کے جذبات، مزاج اور ذوق کے مطابق برتاؤ فرماتے۔ان کے نیک اوصاف کی قدر 200