ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 192
الدرسة سے نبی کریم صلی علیکم آتے ہوئے ملے۔آپ بات کی چھان بین کر کے واپس آرہے تھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔آپ نے اپنی گردن میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔آپ نے ان لوگوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ڈرو نہیں، ڈرو نہیں میں دیکھ کر آیا ہوں کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔پھر آپ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اس کو تیز رفتاری میں سمندر جیسا پایا۔(صحیح بخاری كتاب الجهاد باب الحمائل وتعليق السيف بالعنق ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آپ کی جرات و شجاعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: یک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ صل الم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔اس کا پھل، اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے غرضیکہ ہر چیز مفید ہو۔آنحضرت علی الم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ با مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام او رپناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی لی کام کے پاس ہوتا تھا۔کیو نکہ آپ بڑے خطر ناک مقام میں ہوتے تھے۔سبحان اللہ ! کیا شان ہے۔اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو رہا ہے۔اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا قصور نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تا رسول اللہصلى الم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے مگر زخم خفیف تھے۔یہ خُلق عظیم تھا۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 84 جدید ایڈیشن، رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 152 – 153) اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ کے اسوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔کر لڑ 192