ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 14 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 14

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام جِسُئ يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 594) اے مرے محبوب! میری جان اور میرے حواس اور میرے دل میں تیری محبت سرایت کر چکی ہے۔(اے مرے معشوق!) تیرا عشق میرے جسم پر (کچھ) اس طرح غلبہ پا چکا ہے (کہ وفور جذبات کی وجہ سے) وہ تیری طرف اڑا جاتا ہے۔کاش مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی اور میں اڑ کر تیرے پاس پہنچ جاتا) اس نادر خزانے سے ہم رنگ موتی ہاتھ آتے ہیں۔قارئین کی خدمت میں چند جھلکیاں پیش ہیں : سة اپنا کام خود کرنا ایک دفعہ رسول اللہ صلی العلیم سفر پر جارہے تھے کہ راستے میں ایک منزل پر پہنچ کر ڈیرے لگائے گئے اور صحابہ میدان میں پھیل گئے تا کہ خیمے لگائیں اور دوسرے کام جو کیمپ لگانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں وہ بجالائیں۔انہوں نے سب کام آپس میں تقسیم کر لیے اور رسول اللہ صلی ای میل کے ذمے کوئی کام نہ لگایا۔رسول للہ صلی علی کریم نے فرمایا تم نے میرے ذمے کوئی کام نہیں لگایا؟ میں لکڑیاں چنوں گا تا کہ اس سے کھانا پکایا جاسکے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علیہ علم ہ ہم جو کام کرنے والے موجود ہیں آپ کو کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں میرا بھی فرض ہے کہ میں کام میں حصہ لوں۔چنانچہ آپ نے جنگل سے لکڑیاں جمع کیں تاکہ صحابہ اس سے کھانا پکا سکیں۔(زرقانی) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ گھر پر ہوتے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آجاتا اور آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔(بخاری، کتاب الاذان ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اپنا کام خود کرنا پسند فرماتے تھے اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں فرماتے تھے۔حضرت منشی ظفر علی روایت فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضور دہلی سے واپسی پر امر تسر اترے۔حضرت اماں جان بھی ساتھ تھیں۔حضور نے ایک 14