ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 13 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 13

قسط 1 عاجزانہ راہیں قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران: 32) تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی علی کریم کو اپنی طرف آنے کا جو راستہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا اس پر آپ کی امت میں سب سے زیادہ عمل کرنے والا وجود، پیروی کا حقیقی حق ادا کرنے والا، ہمہ وقت آپ پر و درود و سلام بھیجنے والا، آپ کے دین کی اشاعت کو مقصد حیات بنانے والا، فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول بزرگ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام ہیں۔آپ کا قلب صافی اپنے محبوب کا آئینہ بن گیا۔ایک ہی سر چشمہ نور سے فیض یابی نے دونوں کو یک رنگ بنا دیا۔سراج منیر کی روشنی کا دلفریب عکس اس چودھویں کے چاند کی ہر ادا میں جھلکتا ہے۔دونوں میں دوئی نہ رہی۔غلام احمد علیہ السلام نے احمد صلی اللی علوم کی غلامی میں محمدی نور کے دل نشین جلوے دکھائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ”ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں“ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119) يَا حِبْ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ في مُهْجَتِي وَمَدَارِي وَ جَنَانِي 13