ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 133
سطح کا خیال رکھ کر بات کرتے نصیحت کے الفاظ میں بھی تنوع اور جاذبیت ہے۔قرآن پاک نے شہادت دی وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى ) إِنْ هُوَ الَّا وَحْيٌ يُوحَى )) (النجم : 4-5) اور وہ خواہش نفس سے کلام نہیں کرتا۔یہ تو محض ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے۔حضرت حسن بن علی نے آپ کے انداز تکلم کے بارے میں بیان کیا کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے آنحضرت علی الم کی گفتگو کے انداز کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللی علم ہمیں یوں لگتے جیسے کسی مسلسل اور گہری سوچ میں ہیں اور کسی خیال کی وجہ سے کچھ بے آرامی سی ہے آپ اکثر چپ رہتے۔بلا ضرورت بات نہ کرتے۔آپ بات کرتے تو پوری وضاحت سے کرتے۔آپ کی گفتگو مختصر لیکن فصیح و بلیغ پر حکمت اور جامع مضامین پر مشتمل اور زائد باتوں سے خالی ہوتی۔لیکن اس میں کوئی کمی یا ابہام نہیں ہوتا تھا۔نہ کسی کی مذمت و تحقیر کرتے نہ توہین و تنقیص، چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بھی بڑا ظاہر فرماتے۔شکر گزاری کا رنگ نمایاں تھا۔کسی چیز کی مذمت نہ کرتے۔نہ اتنی تعریف جیسے وہ آپ کو بے حد پسند ہو۔(شمائل الترمذی باب کلام رسول الله ) حضرت عائشہ نے آپ کے نطق گویائی کے بارے میں فرمایا: ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یونہی باتوں میں نہیں لگے رہتے تھے ”جس طرح تم لوگ باتیں کرتے چلے جاتے ہو بلکہ وہ ایسے انداز میں کلام کرتے تھے جو واضح نکھرا نکھرا ہوتا جسے آپ کے پاس بیٹھنے والا حفظ کر لیتا تھا۔“ آنحضور اکثر چپ رہتے تھے۔بلا ضرورت بات نہ کرتے تھے۔جب بات کرتے تو پوری وضاحت سے کرتے۔آپ کی گفتگو مختصر لیکن فصیح و بلیغ، پر حکمت اور جامع ہوتی۔کسی کی مذمت و تحقیر نہ کرتے اور نہ توہین و تنقیض۔(حديقة الصالحين صفحہ 48) 133