ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 132 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 132

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کوئی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھا جا سکتا اور کسی دوسرے لفظ سے بدلا نہیں جا سکتا لیکن باوجود اس کے قافیہ بندی اور فصاحت و بلاغت کے تمام لوازم موجود ہیں“ (ذکر حبیب صفحہ 242) جب حضرت نبی کریم کا یہ کام آتی تھے تاہم اللہ پاک نے آپ کو عرب میں سب سے زیادہ فصیح بنایا تھا۔جسہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کی اس قدر فصاحت کا سبب کیا ہے تو آپ نے فرمایا: أَنَا أَعْرَبُكُمْ، أَنَا قُرَشِي، وَاسْتُرْضِعْتُ فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرِ یعنی میں عربی میں تم سب سے زیادہ فصیح ہوں، میں قریشی ہوں اور میری رضاعت بنو سعد بن بکر میں ہوئی ہے۔آپ کا فرمان ہے اُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِہ یعنی مجھے جَوَامِعُ الكَلِم عطا کئے گئے۔(سیرت ابن ہشام صفحہ 681) (مسلم حدیث: 1167) یہ جوامع الکلم آپ صلی میں کام کی عظمت نبوت کا ثبوت ہیں اور یہ آپ کے خصائص عظیمہ میں سے ہیں جو آپ کے علاوہ دیگر انبیاء کو عطا نہ ہوئے۔آپ کے بیان کی شیرینی معجزانہ رنگ رکھتی تھی۔مختصر سے جملوں میں حکمت کے سمندر بند ہیں۔معانی کے لامتناہی خزائن ہیں۔کلام اتنا واضح ہوتا کہ کسی قسم کے ابہام کا شائبہ بھی نہ ہوتا۔تکلف اور بناوٹ سے پاک تقویٰ شعار دل کی آواز جو جادو کی طرح اثر رکھتی۔سادگی اور سچائی دلوں پر اثر کرتی۔خوش بیانی اور شگفتگی بے مثال تھی ہر شخص اپنے فہم کے مطابق آپ کے الفاظ سے علم و حکمت کشید کر سکتا ہے کلام اللہ کے بعد فصاحت میں آپ کا مقام ہے۔فصحاء و بلغاء آپ کا کلام سُن کر دنگ رہ جاتے تھے۔یہ سراسر عنایت الہی تھی۔پندرہ سو سال سے ان گنت کتابیں آپ کے کلمات کی تشریح میں لکھی جارہی ہیں۔رسول کریم ملی ال نیم کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا اور شیر خواری اور بچپنے کی عمر بنو سعد میں گزاری۔مذکورہ قبائل عربی زبان دانی میں نام رکھتے تھے۔اس طرح مولا کریم نے بچپن سے ہی بہترین چیزوں کا آپ کے لئے انتظام فرمایا۔آپ کی گفتگو میں قلیل الفاظ میں گہری اور بڑی بات کہہ جانے کا انداز ملتا ہے گفتگو میں کوئی لفظ کم یا زیادہ نہ ہوتا کوئی ابہام یا مبالغہ نہ ہوتا۔سننے والے کو نہ کمی محسوس ہوتی نہ بے جا طوالت پریشان کرتی بات کا ہر پہلو مکمل ہو تا آپ نے کسی سے بلاغت نہیں سیکھی تھی اور نہ اہل بلاغت کی محفلوں میں بیٹھے تھے بلاغت آپ کی جبلت اور فطرت میں شامل تھی جو فیضان الہی سے عطا ہوئی تھی دست قدرت نے آپ کو ادب سکھایا تھا عام گفتگو میں بھی مخاطب کے ذوق و ذہنی 132