ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 123
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ٹوٹنے کی ہی فکر پڑ گئی تھی۔پھر شاید شگاف ہو کر مل گیا۔فلاسفروں کو ابھی بہت کچھ سمجھنا اور معلوم کرنا باقی ہے۔کے آمدی کے پیر شدی۔ابھی تو نام خدا ہے غنیہ ! صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہو سکتے گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لیے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہر گز باور نہیں کر سکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کرلیں۔سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں اس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔“ رمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 93) مکہ میں چاند سے بادشاہ بھی مراد لیا جاتا تھا اس نشان سے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ پرانی بادشاہتیں ختم ہو گئی ہیں سرداری صرف حضرت محمد لا الم کی ہو گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آئینہ میں صورتوں کا انعکاس (عربی سے ترجمہ) اس خدا کو تمام تعریف ہے جس نے مجھے نشانوں کا جائے ظہور بنایا اور سرور کائنات کا ظل مجھے ٹھہرا دیا اور میرے نام کو آنحضرت صلی للی نیلم کے نام سے مشابہ بنا دیا۔اس طرح پر کہ اپنی نعمتوں کو میرے پر پورا کیا تا میں اس کی بہت تعریف کر کے احمد کے نام کا مصداق بنوں اور میرے سبب سے لو گوں کے ایمان کو تازہ کیا تا وہ میری بہت تعریف کریں اور میں محمد کے نام کا مصداق بنوں پس میں احمد ہوں اور میں محمد ہوں جیسا کہ روایات میں آیا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللی کام کے دونوں ناموں کی حقیقت عطا فرمائی گئی ہے جیسا کہ آئینہ میں صورتوں کا انعکاس ہو جاتا ہے پس ہم اس نبی اُمّی پر درود اور سلام بھیجتے ہیں جس کے انوار نیک مردوں اور نیک عورتوں میں چمکتے ہیں اور اس کے نام کے ساتھ بر کتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں“ (حجۃ اللہ ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 165) 123