ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 122
کہ کفار مکہ نے آپ سے کوئی نشان مانگا۔آپ نے اپنی انگلی اٹھا کر چاند کی طرف اشارہ فرمایا سب کی نظریں چاند کی طرف اٹھ گئیں سب کو ایسا لگا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔اس کو معجزہ شق القمر کہتے ہیں مگر اس کو دیکھ کر بھی انہوں نے حق کو نہ مانا اور کہنے لگے یہ تو جادو ہے۔اس واقعہ کا ذکر سورہ القمر میں ہے: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ (ج) وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرًا حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ فَتَوَلَ عَنْهُمْ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلى شَيْءٍ نكي ال (القمر : 2 تا 7) ساعت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا جادو ہے اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور جلد بازی سے کام لیا) حالا نکہ ہر آمر (اپنے وقت پر) قرار پکڑنے والا ہوتا ہے۔اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجر و توبیخ تھی۔کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔پھر بھی انذار کسی کام نہ آئے۔پس اُن سے اعراض کر۔(وہ دیکھ لیں گے) وہ دن جب بلانے والا ایک سخت ناپسندیدہ چیز کی طرف بلائے گا۔آنکھوں سے معجزہ دیکھنے والے یہ تو نہ کہہ سکے کہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا یہ اعترض کر دیا کہ یہ قوانین قدرت کے خلاف ہے۔فی الحقیقت معجزے کی شان تو یہی ہے کہ اس میں کچھ انوکھا پن ہو معمول کی بات نہ ہو۔پھر انسان آج تک علم ہیئت کے سارے پرت نہیں کھول سکا۔خدا تعالی کی قدرتیں لا محدود ہیں۔چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا نظارہ ایک کشفی نظارہ ہو سکتا ہے جس میں سب کو شریک کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کی صداقت کا گواہ بنایا۔یا زمینی عوامل کو ایسے ترتیب دیا کہ ایک معجزہ ظہور میں آجائے مثلاً کسی آتش فشاں کے پھٹنے سے بخارات کا اٹھنا یا کسی بگولے وغیرہ کا آسمان کی طرف بلند ہونا جس سے وقتی طور پر چاند دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آیا۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: غرض علوم جدیدہ کا سلسلہ منقطع ہوتا نظر نہیں آتا۔شق القمر کے ایک تاریخی واقعہ سے کیوں اتنا نفرت یا تعجب کرو۔گزشتہ دنوں میں تو جس کو کچھ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک یورپین فلاسفر کو سورج کے 122