ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 112 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 112

مبارک نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے خدائے واحد و یگانہ کا پیغام دیا۔انداز وہی تھا جو آنحضور کی ایم نے قیصر و کسری اور دوسرے بادشاہوں کے نام خطوط میں اختیار فرمایا تھا۔اس دعوت حق کے لفظ لفظ سے، بیان کی قوت و صداقت سے آپ کے قلب مطہر کا جوش و جذبہ منعکس تھا۔آپ نے فرمایا: اے زمین کی ملکہ! تو مسلمان ہو جا۔تو اور تیری سلطنت محفوظ رہے گی۔ملکہ وکٹوریہ نے شکریے کے خط کے ساتھ آپ سے دیگر تصانیف بھیجوانے کی خواہش کی۔یہ تو بظاہر کوئی بڑی کامیابی نہ تھی مگر یہ خط بیج ڈالنے کے مترادف تھے جو سازگار آب و ہوا ملتے ہی اُگنے، بڑھنے پھلنے پھولنے لگتے ہیں۔پھر 1897ء میں ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جوبلی کے موقع پر ایک رسالہ ”تحفہ قیصریہ“ تحریر فرمایا جس میں ملکہ کو دوسری بار بڑے خلوص سے دعوتِ اسلام دی۔اس کے بعد 1899ء میں ”ستارہ قیصریہ“ کے نام سے اسی پیغام کا اعادہ فرمایا۔ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار اور جلسہ احباب کے نام سے ملکہ کے لئے مبارکباد اور دعا کے جلسہ کی کارروائی تحریر فرمائی۔جس میں اس کے اسلام کی آغوش میں آنے کی دعا بھی شامل ہے۔”اے قادر توانا! ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرات کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہء ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ پر اس کا خاتمہ کر۔اے عمیق قدرتوں والے! اے عجیب تصرفوں والے! ایسا ہی کر “ (جلسه احباب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 290) روزنامه الفضل آن لائن لندن 22 اپریل 2022ء) 112 12