ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 111
قسط 20 قیصر اور قیصرہ قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کے بعد نسبتا سکون کے دن میسر آتے ہی آنحضرت صلی الم نے جہادِ اصغر کے بعد دعوت الی اللہ اور عبادات کے جہادِ اکبر کی طرف توجہ دی۔آپؐ کا فرض منصبی کل عالم کو پیغام حق پہنچانا تھا آپ نے اس غرض کے لئے عرب کے چاروں طرف بادشاہوں اور رؤساء کو ایک ساتھ خطوط ارسال فرمائے۔ان میں شام میں روما کے شہنشاہ قیصر ، شمال مشرق میں فارس کے شہنشاہ کسر گی، عرب کے شمال مغرب میں مقوقس شاہ مصر، مشرق میں یمامہ کے رئیس ہو زہ بن علی، مغرب میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی، شمال میں عرب سے متصل ریاست کے حاکم غسان، عرب کے جنوب میں رئیس یمن اور مشرق میں والی بحرین شامل تھے۔آنحضور صلی الم نے ان خطوط کے مضامین کمال حکمت سے ترتیب دئے۔نمونے کے طور پر قیصر شاہ روم کے نام خط کا متن درج ذیل ہے: میں اللہ کے نام سے اس خط کو شروع کرتا ہوں۔جو بے مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے روما کے رئیس ہر قل کے نام ہے سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے۔اس کے بعداے رئیس روما! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔مسلمان ہو کر خدا کی سلامتی قبول کیجئے کہ اب صرف یہی نجات کا رستہ ہے۔اسلام لائیے خدا تعالی آپ کو اس کا دوہرا اجر دے گا۔لیکن اگر آپ نے رو گردانی کی تو یاد رکھئے کہ آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہو گا۔اور اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے تمہارے درمیان مشترک ہے۔یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں اور خدا کو چھوڑ کر اپنے میں سے کسی کو اپنا آقا اور حاجت روانہ گردانیں۔پھر اگر ان لوگوں نے رو گردانی کی تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہر حال خدائے واحد کے دامن کے ساتھ وابستہ اور اس کے فرمانبر دار بندے ہیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1893ء میں اپنی معرکتہ الآرا کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ میں اپنے عہد کے علماء ومشائخ، فقراء اور گدی نشینوں کو دعوتِ حق کے لئے عربی زبان میں ”التبلیغ“ کے نام سے ایک طویل مکتوب تحریر فرمایا اس میں برطانیہ کی ملکہ معظمہ وکٹوریہ کے نام خصوصی طور پر اپنے محبوب کے 111