ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 105
طرح کے مجاہدوں سے منع فرماتے۔حضرت میر محمد اسمعیل تحریر فرماتے ہیں: چھ ماه تک ”آپ نے اوائل عمر میں گوشہ تنہائی میں بہت بہت مجاہدات کئے ہیں اور ایک موقع پر متواتر روزے منشائے الہی سے رکھے اور خوراک آپ کی صرف نصف روٹی یا کم روزہ افطار کرنے کے بعد ہوتی تھی اور سحری بھی نہ کھاتے تھے اور گھر سے جو کھانا آتا وہ چھپا کر کسی مسکین کو دیدیا کرتے تا کہ گھر والوں کو معلوم نہ ہو۔مگر اپنی جماعت کے لئے عام طور پر آپ نے ایسے مجاہدے پسند نہیں فرمائے۔“ مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صفحہ 544) حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم روایت فرماتی ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جوانی کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں مجھ کو معلوم ہوا یا فرمایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کرنے کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔فرماتے تھے پھر میں نے چھ ماہ لگاتار روزے رکھے اور گھر میں یا باہر کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میں روزہ رکھتا ہوں صبح کا کھانا جب گھر سے آتا تو میں کسی حاجتمند کو دے دیتا تھا اور شام کا خود کھا لیتا تھا۔آخر عمر میں بھی آپ روزے رکھا کرتے تھے خصوصا شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے۔ہاں مگر آخری دو تین سالوں میں بوجه ضعف و کمزوری رمضان کے روزے بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔“ (سيرة المهدی حصہ اول صفحہ 14 روزوں سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوئی آپ فرماتے ہیں: میں نے چھ ماہ تک روزے رکھے اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ انوار کے ستونوں کے ستون آسمان پر جارہے ہیں یہ امر مشتبہ ہے کہ انوار کے ستون زمین سے آسمان پر جاتے تھے یا میرے قلب سے۔لیکن یہ سب سے۔لیکن کچھ جوانی میں ہو سکتا تھا اگر اس وقت میں چاہتا تو چار سال تک روزہ رکھ سکتا تھا۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 562) ”میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں۔طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔یہ مبارک دن ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے نزول کے دن ہیں۔“ الحلم 24 فروری 1901ء صفحہ 14) 105