ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 104 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 104

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام زمانہ سے در آنے والے رطب و یابس سے مبراء اصلی حسین چہرہ خود عمل کرکے دکھایا۔قرب الہی کی راہوں کے متلاشی روزوں کی عبادت کی قبولیت سے خوب واقف تھے۔فرماتے ہیں: وو یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم وم تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیۂ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 561 - 562) آپ نے وہ نقوشِ قدم پا لئے تھے جو سیدھے یار کے کوچے میں لے جاتے ہیں۔ارشاد فرمایا: آنحضرت صلی اللی امام رمضان شریف میں بہت عبادت کرتے تھے ان ایام میں کھانے پینے کے خیال سے فارغ ہو کر اور ان ضرورتوں سے انقطاع کر کے تقبل الی اللہ حاصل کرنا چاہئے۔“ ( تقاریر جلسہ سالانہ 1906ء صفحہ 20 - 21) مسلسل روزے رکھنے کا انداز، کھانے پینے کے خیال سے فارغ، ہمہ تن در گه مولا کریم و رحیم پر جھکے ہوئے۔مکرم مولانا دوست محمد صاحب مورخ احمدیت تحریر کرتے ہیں: جوانی کے عالم میں ایک دفعہ مسلسل آٹھ نو ماہ تک روزے رکھے اور آہستہ آہستہ خوراک کو اس قدر کم کر دیا کہ دن رات میں چند تولہ سے زیادہ نہیں کھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا کے فضل سے اپنے نفس پر اس قدر قدرت حاصل ہے کہ اگر کبھی فاقہ کرنا پڑے تو قبل اس کے کہ مجھے ذرا بھی اضطراب ہو ایک موٹا تازہ شخص اپنی جان کھو بیٹھے۔بڑھا پے میں بھی جب کہ صحت کی خرابی اور عمر کے طبعی تقاضے اور کام کے بھاری بوجھ نے گویا جسمانی طاقتوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔روزے کے ساتھ خاص محبت تھی اور بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سحری کھا کر روزہ رکھتے تھے اور دن کے دوران میں ضعف سے مغلوب ہو کر جبکہ قریباً غشی کی سی حالت ہونے لگتی تھی خدائی حکم کے ماتحت روزہ چھوڑ دیتے تھے مگر جب دوسرا دن آتا تو پھر روزہ رکھ لیتے۔“ تاریخ احمدیت جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 384) حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اس طرح کا مجاہدہ توفیق الہی بھر پور ہمت سے کر سکے مگر عام طور پر اس 104