راکھا — Page 172
کرنے کے بعد ہاتھ اور متعلقہ اشیاء صاف کر دیں۔کبھی اپنے کپڑے خود بھی استری کر لیا کریں۔۱۴۔کبھی کبھی چائے بنا کر بیوی کو پیش کریں اور اُس کے ساتھ بیٹھ کر پئیں۔۱۵۔بیوی کی بیماری کی صورت میں پوری توجہ سے اُس کا علاج کروائیں اور صحت بحال ہونے تک اُسے آرام پہنچائیں اور امورِ خانہ داری سے ممکنہ حد تک اُسے فارغ رکھنے کی کوشش کریں۔۔اگر آپ محسوس کریں کہ بیوی غیر معمولی کام کاج کی وجہ سے تھک گئی ہے یا وہ خود ہی اس بات کا اظہار کرے تو اُس سے ہمدردی کا اظہار کریں، حوصلہ افزائی کریں اور اُسے آرام پہنچائیں۔۱۷۔کسی دعوت یا پروگرام پر جانے یا کسی کو اپنے گھر پر بلانے کے دن اور وقت سے بیوی کو بر وقت مطلع کریں۔جہاں ممکن ہو ایسے پروگرام اُس کے مشورے سے بنا ئیں۔۱۸۔بیوی سے کوئی شکایت ہو تو کسی تیسرے شخص سے بات کرنے کی بجائے جتنی جلدی ممکن ہو خود اُس سے بات کریں تا ایسا نہ ہو کہ شکایت سے غلط انہی پیدا ہو کر تلخی کا باعث بن جائے۔وا۔خود اپنے سے غلطی ہو جائے تو واضح طور پر اُس کا اعتراف کر لیں اور بیوی سے معذرت کر لیں۔۲۰۔اخراجات کے بارے میں بیوی پر اعتما ذکر میں گھر کی سجاوٹ یا فرنیچر وغیرہ کی خریداری وغیرہ امور میں بیوی کی پسند کا خیال رکھیں۔۲۲۔گاہے بگا ہے بیوی اور اگر بچے شعور کی عمر کو پہنچ چکے ہیں تو انہیں بھی شامل کر کے مل بیٹھا کریں اور گھریلو مسائل پر تبادلہ خیال کیا کریں۔۲۳۔بیوی یا گھر کا کوئی دوسرا فرد بات کرے تو اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوں اور اُس کی طرف دیکھ کر اُس کی بات سنیں ، اُسے اہمیت دیں اور اُسے مناسب رنگ میں جواب دیں۔۲۴۔اچھے اور نیک خاندانوں سے روابط رکھیں۔172