راکھا — Page 168
کا جس رنگ میں عورت کیلئے حکم ہے اُس طرح مرد کیلئے نہیں۔یعنی عورت کو اُس کی صنف کے بعض مخصوص تقاضوں کی وجہ سے ظاہری چادر کے استعمال کی زیادہ ضرورت ہے اور اگر وہ اسے استعمال نہیں کرے گی تو اُسے نقصان کا زیادہ خطرہ ہے۔چادر کے معنوی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو خاوند کے بغیر ایک عورت کو نسبتاً زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُسے زیادہ خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔علیحدگی کی صورت میں چھوٹے بچے عموما ماں کے پاس رہتے ہیں اور اُس اکیلی کو اُن کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے مسائل کو بھگتنا پڑتا ہے۔یہاں یورپ کے آزاد معاشرے میں بھی جو عورتیں خاوندوں کے بغیر رہتی ہیں اُنکی گھریلو زندگی کا اگر انسان بغور مطالعہ کرے تو یہ سمجھنا ہر گز مشکل نہیں ہوتا کہ وہ طرح طرح کے مسائل میں الجھی ہوئی اور ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔گھر کی حفاظت کے حوالے سے مشرق میں ایک ضرب المثل آج بھی مشہور ہے کہ دروازے کے باہر پڑی ہوئی مرد کی تو جوتی بھی کافی ہوتی ہے۔یہ تو درست ہے کہ یورپ کی ان عورتوں کیلئے ادھر ادھر سے چادر میں پکڑ کر وقتی ضرورت پوری کرنے میں کوئی روک نہیں لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ اپنی چادر اپنی ہی ہوتی ہے۔اس وقتی ضرورت کے علاوہ بھی تو روز مرہ معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک عورت کو مرد کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ اکیلی اُس صورتِ حال سے نہیں نپٹ سکتی۔بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے مسئلے سے ہی اکیلی عورت کا صحیح معنوں میں عہدہ برآ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔اس قسم کے بیسیوں مسائل سے نپٹنے کیلئے ایک عورت کو اپنی ایک مستقل چادر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ چادر اُس کا خاوند ہے۔اگر چہ غیر مسلم عورتوں کو اس معاشرے میں عارضی چادریں تو ہر وقت میسر ہیں اور وہ چاہیں تو دن میں دو دو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔لیکن اپنی چادر اتار پھینکنے کے بعد دوسری مستقل چادر کا حصول ان کیلئے بھی کوئی آسان کام نہیں۔168