راکھا — Page 119
وہ اپنے اہل وعیال کے اخلاق و عادات کی نگرانی کریں اور انہیں ایسی باتوں سے بچائیں جو اُن کے دین اور اخلاق کو تباہ کرنے والی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم ۷ ) ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔اس آیت کریمہ میں اَهْلِيكُمُ کا لفظ اس بات پر واضح قرینہ ہے کہ یہاں گھر کے نگران مخاطب ہیں کیونکہ وہی اہل وعیال کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔اولاد کے حق میں باپ کی دعا کو خاص قبول بخشا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں : ” تین دعائیں مقبول ہیں۔ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔(۱) والد کی دعا (۲) مسافر کی دعا (۳) مظلوم کی دعا۔(ترمندی، ابو داؤد، ابن ماجہ )۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی جو دعائیں التزام کے ساتھ ہر روز مانگا کرتے تھے اُن میں اپنے بچوں کے خادمِ دین ہونے کی دعا بھی شامل ہوا کرتی تھی۔( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۴-۵) ماں اپنی مخصوص دلی کیفیات کی وجہ سے اکیلی یہ ذمہ داری کماحقہ نبھا ہی نہیں سکتی۔وہ نسبتاً زیادہ نرم دل ہوتی ہے۔اُس میں نرمی ، پیار اور رحم کا جذ بہ قدرتی طور پر زیادہ ہوتا ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ بچوں کی ناراضگی ، تکلیف یا ضد کو زیادہ برداشت نہیں کر سکتی اور جلد ہی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اُن کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ظاہر ہے ہر وقت اور ہر حال میں نرمی اور لاڈ پیار سے تربیتی مراحل میں توازن بگڑ جایا کرتا ہے۔بعض حالات میں جس طور سے تنبیہ اور سرزنش ضروری ہوتی ہے وہ ماں کر ہی نہیں سکتی۔مشاہدہ گواہ ہے کہ جن بچوں کے باپ فوت ہو جاتے ہیں یا گھر سے لمبے عرصے کیلئے باہر رہتے ہیں یا پھر رہتے تو اُسی گھر میں ہیں لیکن کسی وجہ 119