عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 1 of 15

عید الاضحیہ — Page 1

قربانی کی روح اور فلسفہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ قربانی اللہ تعالیٰ کی خاطر کرنی ہے۔خدا تعالیٰ جو تمہارے اندر تقویٰ قائم کرنے کے لئے تم سے قربانی مانگتا ہے۔یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو تو ان مادی چیزوں (صرف احمدی احباب کے لئے ) عِيدُ الاضْحِبَ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کر کے قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کروانے کے لئے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور میں نے اس کی گردن پر چھری پھیری ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی اس جانور کو ذبح کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں اس کے حکم پر عمل کرنے والا ہوا، اس قابل ہوا کہ اس پر عمل کرسکوں۔اس نے مجھے توفیق دی کہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں شامل ہوا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو گے، تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی۔یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں۔“ 66 (حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ازخطبہ عیدالاضحیہ 21 جنوری 2005ء) قربانی کی حقیقت ، فضائل اور مسائل)