قربانی کا سفر — Page 63
کے لئے پیش کرتی ہوں۔پھر لکھتی ہیں کہ اسلام کی ترقی اور عظمت ہی ہمارے گھر کا اصول رہا ہے اور اصل زینت کا باعث یہی ہے۔اس لئے مجھے اسلام کی یہی 66 زینت سب سے زیادہ پیاری ہے۔ایک صاحب اپنی بیٹی کے متعلق لکھتے ہیں کہ میری بیٹی جس کی عمر پندرہ سال ہے اُس کے کانوں میں صرف دو بالیاں تھیں اور ناک میں ڈالنے والے دو کو کے تھے وہ بے قرار ہو گئی اور اُتار کر دے دیئے اور کہنے لگی ابا جان یہ میرے آقا کے حضور پیش کر دیں اور اس جذبے سے اُس نے کہا کہ باپ بھی انکار نہیں کرسکا۔کچھ بعض واقفین زندگی ایسے تھے جن کی خواتین کے پاس پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے اپنے بچے پیش کئے یہ جو ” وقف نو“ کی تحریک ہے یہ تو بعد میں چلی ہے۔بہت پہلے بعض عورتوں نے اس وجہ سے کہ ہمارے پاس کچھ دینے کے لئے نہیں ہے۔اپنے بچوں میں سے جو سب سے پیارا لگتا تھا وہی خدمت دین کیلئے پیش کر دیا تھا۔“ لندن کی ایک خاتون نے اپنے نکاح کی ایک نشانی رکھ کر باقی سب کچھ خدا کی راہ میں پیش کر دیا تھا۔لندن ہی سے ایک اور خاتون نے لکھا آج جب میں نے آپ کا خطبہ سنا تو میری نظر ایک دم میرے ہاتھ کی چوڑیوں اور باقی زیور پر پڑی میں نے گھر آکر اُتار دیں اور کہا عید سے پہلے یہ چیزیں میں دین کے لئے دے دوں اور عید پر کچھ نہ پہنوں حضور آپ یہ قبول فرما دیں۔میرا خدا میرے لئے کافی ہے۔ایک نہایت غریب اور ضعیف بیوہ جو پٹھان اور مہاجر تھیں اور سونٹی لے کر بمشکل چل سکتی تھی خود چل کر آئی اور حضور کی خدمت میں دوسو روپے پیش کر 63