قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 62 of 81

قربانی کا سفر — Page 62

سڑی ہے۔“ ( الفضل انٹرنیشنل 19 ستمبر 2003) خواتین کا محبوب اور قیمتی اثاثہ کیسے خدا کے لئے قربان کر دیا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے مختلف مواقع پر جن واقعات کا ذکر فرمایا ان میں سے چند امثال پیش خدمت ہیں۔ایک ماں نے میرے پاس دس ہزار روپے بھیجے وہ لکھتی ہیں کہ میرے پاس بیٹی کے زیور کے لئے دس ہزار روپے جمع تھے جو سنار کو دیئے ہوئے تھے۔۔۔۔یہ خطبہ سن کر دل نے فیصلہ کیا کہ جب میرا خدا میری بیٹی کے لئے ساتھی دے گا تو زندہ خدا اس کو زیور بھی دے گا۔آج میرے حضور کو ضرورت ہے چنانچہ سُنار کو دیئے ہوئے وہ پیسے واپس لے کر یورپین مشن کے چندے میں دے دیئے۔“ ایک اور عورت لکھتی ہے میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے زیور کا سیٹ مبلغ چار ہزار روپے میں فروخت کیا تھا کہ کچھ رقم جمع کر کے بھاری سیٹ بناؤں گی تا کہ بچیوں کے کام آسکے لیکن بچیوں کے لئے اللہ کوئی اور انتظام کر دے گا۔اب زیور بنوانے کی خواہش نہیں رہی میری طرف سے یورپین مشن کے لئے یہ حقیر قبول فرمائیں۔“ ایک واقف زندگی کی بیگم نے لکھا اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں اس قربانی کے موقع پر حاضری دوں اور قرآن مجید کے حکم لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔۔۔۔یعنی تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہو ، جو تمہیں پیارا ہو“ کہتی ہیں کہ اس آیت کے تابع میں نے سوچا کہ مجھے اپنی ملکیتی چیزوں میں سے جو چیز سب سے پیاری ہے وہ پیش کروں تو میں نے دیکھا کہ میرے گلے کا ایک ہار جو میرے زیوروں سے زیادہ بھاری ہے وہی مجھے سب سے پیارا ہے۔پس میں یہ ہار یورپین مشن 62