قربانی کا سفر — Page 29
جماعت کی ہے جوتی کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ بھی جماعت ہے اور جو وظیفہ ملتا تھا اس میں سے جو دو روپے تھے وہ کہتی ہے وہ بھی جماعت ہی کے تھے۔میں نے اپنے لئے اکٹھے بچائے ہوئے تھے اب میں یہ جماعت کے حضور پیش کرتی ہوں کتنا عظیم جذبہ تھا وہ دو روپے جماعت ہی کے وظیفہ سے بچائے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور اُس دو روپے کی عظیم قیمت ہو گی۔حضرت فضل عمر فرماتے ہیں اُس نے کہا یہ جوتی دفتر کی ہے ، میرا قرآن بھی دفتر کا ہے یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں مجھے ہر چیز دفتر سے ملتی ہے فرماتے ہیں اُس کا ایک ایک لفظ ایک طرف تو میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا اور دوسری طرف میرا دل اُس محسن کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے زندہ اور سرسبز روحیں پیدا کر دیں شکر و احسان کے جذبات سے لبریز ہو رہا تھا اور میرے اندر سے یہ آواز آ رہی تھی۔خدایا ! تیرا مسیحا کس شان کا تھا جس نے اُن پٹھانوں کی جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے ایسی کایا پلٹ دی کہ وہ تیرے دین کے لئے اپنے ملک اور اپنے عزیز اور اپنا مال قربان کر دینا ایک نعمت سمجھتے ہیں۔مصباح جولائی 1992ء صفحہ 11-12) مسجد برلن کے لیے احمدی خواتین نے بیمثال قربانیاں کیں اور بہت زیادہ ایمان افروز واقعات دیکھنے میں آئے۔چند ایک کا تذکرہ بطور نمونہ درج ذیل ہے۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کو ایک جائداد کی فروخت سے پانچ سوروپے حاصل ہوئے جو تمام چندہ میں دے دیئے۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک ہزار روپیہ دیا۔اسی طرح حضرت نواب حفیظ بیگم صاحبه ، بیگم مرزا شریف احمد صاحب بیگم میر محمد الحق صاحب ، اور بیگم صاحبہ خان بہادر مرزا سلطان احمد 29