قربانی کا سفر — Page 28
اسے اپنے انعامات میں سے حصہ دے گا۔الفضل 14 مارچ 1944 ، صفحہ 11) حضرت فضل عمر پرانے زمانے کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ابھی بہت زیادہ غربت تھی ، ایک بڑھیا خاتون نے جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا۔حضور کی تحریک پر باوجود غربت کے وعدہ کیا کہ آٹھ آنے ماہوار دیا کروں گی۔آپ اندازہ کریں اُس وقت آٹھ آنے کی کیا قیمت تھی اور اُس زمانے میں آٹھ آنے ماہوار ادا کرنا اُس کے لئے کتنا مشکل تھا لیکن چند مہینے اُس نے آٹھ آنے ماہوار ادا کئے اور اس کے بعد پھر بے قرار ہوگئی کہ مجھے وعدہ پورا کرتے ہوئے ایک سال لگے گا تو حضرت فضل عمر کی خدمت میں باقی پیسے پیش کرتے ہوئے اُس نے کہا اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خواہ فاقے کرنے پڑیں لیکن میں اکٹھا دوں گی وہ آٹھ آنے بچانے کے لیے واقعی اس عورت کو فاقے درپیش تھے تو بظاہر یہ ایک بہت معمولی قربانی تھی لیکن وہ جذبہ ، وہ اخلاص، اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اپنے اموال پیش کرنا یہ وہی ہے جو آج ساری جماعت کے کام آ رہا ہے۔“ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقریر 12 ستمبر 1992ء کو و جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر فرمایا۔حضرت فضل عمر اُس زمانے میں مسجد برلن کی تعمیر کی تحریک کے دوران ایک احمدی پٹھان عورت کی قربانی کا ذکر فرماتے ہیں کہتے ہیں ضعیف تھی چلتے وقت قدم سے قدم نہیں ملتا تھا۔لڑکھڑاتے ہوئے چلتی تھی ، میرے پاس آئی اور دو روپے میرے ہاتھوں میں تھما دیئے زبان پشتو تھی اُردو اٹک اٹک کر تھوڑا تھوڑا بولتی تھی اتنی غریب عورت تھی کہ جماعت کے وظیفہ پر پل رہی تھی اس نے اپنی پنی کو ہاتھ لگا کر دکھایا کہ یہ جماعت کی ہے اپنی نمیض کو ہاتھ میں پکڑ کر بتایا کہ یہ 28