قربانی کا سفر — Page 25
کے ساتھ کیا ہوا ہے اور یہ کہ وہ بالکل برباد ہو گئے ہیں۔پھر اس نے دو زیور نکال کر بطور چندہ دے دیئے۔میں نے اسے کہا تم تو کٹ کر آئی ہو ، یہ چندہ تو ان لوگوں پر جو یہاں تھے اور جو لوٹ مار سے محفوظ رہے۔وہ عورت یہ بھی کہہ رہی تھی کہ اس نے حفاظت مرکز کا چندہ ادا کر دیا ہوا ہے اس نے کہا میں یہی دو زیور نکال کر لائی ہوں۔جب میں نے دیکھا کہ جماعت نازک دور سے گزر رہی ہے تو میں نے خیال کیا کہ میرا سارا زیور اور دوسری جائیداد تو کفار نے لوٹ لی ہے کیا اس میں خدا تعالیٰ کا کوئی حصہ نہیں میرے پاس یہی دو زیور ہیں جو میں بطور چندہ دیتی ہوں۔“ (الفضل تبلیغ / فروری 1988 ء صفحہ 5 کالم 3)۔میں نے دیکھا ہے کہ قادیان سے آنے کے بعد بعض غرباء نے اتنی اتنی رقم بطور چندہ کے دی ہے کہ اگر اس کا اندازہ لگایا جائے تو اس کا سینکڑواں حصہ بھی امراء نے نہیں دیا۔جو کچھ بھی انہوں نے اپنی ضرورتوں کے لئے پس انداز کیا ہوا تھا وہ میرے سامنے لا کر رکھ دیا، پتہ نہیں کہ وہ روپیہ انہوں نے کتنے سالوں میں جمع کیا تھا۔کسی امیر نے ایسا نہیں کیا بلکہ سو سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا ہے، 75 سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا ہے بلکہ پچاس سے کم آمدن والوں نے ایسا کیا۔" (الفضل تبلیغ فروری 1988 ، صفحہ 5) 1920ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے مسجد برلن کے لئے عورتوں کو چندہ کی تحریک فرمائی اس سلسلہ میں حضور اقدس نے ان گراں قدر الفاظ میں خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔1920 ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں مسجد بنائیں گے اس کے لیے ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے تو جماعت کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ روپیہ اکٹھا کر دیا۔انہوں نے اپنے زیور 25