قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 24 of 81

قربانی کا سفر — Page 24

دعاؤں کا نتیجہ ہے ورنہ میرے جیسا انسان اور خصوصاً ان حالات میں سے گزرنے والا جس کے پاس ایک پائی جمع نہ ہو بلکہ وہ ہزار روپے کا مقروض ہو جس کی ماہوار آمدنی بمشکل تمام گھر کے افراد کے لیے کافی ہو سکتی ہو وہ محض اللہ تعالیٰ کے رحم اور حضور کی دعاؤں کے طفیل ہی اس تحریک میں حصہ لے سکتا ہے۔“ (الفضل 19 دسمبر 1940ء) ایک معمر مخلص احمدی اپنے ایمان و اخلاص کا کس والہانہ انداز میں اظہار کر رہے ہیں۔سیدی میں چندہ میں اضافہ کرتا ہوں میرا مولا میری آمدنی میں اضافہ کرتا ہے اور میرے مال و اولاد میں برکت بخشتا ہے چندہ میں نہیں دیتا میرا مالک خالق مجھے دیتا ہے میں منی آرڈر کر دیتا ہوں۔میں نے قرض بھی دینا تھا ان سالوں میں وہ بھی اُتر گیا ، مکان کچے تھے پختہ ہو گئے ، میں سمجھتا ہوں تحریک جدید کا چندہ اکسیر ہے کیمیا گری ہے۔“ (الفضل 18 دسمبر 1940ء) وو۔اس دفعہ چندہ تحریک جدید ادا کرنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کی ادائیگی کی توفیق دی۔۔۔حالت یہ ہے کہ اس وعدہ کے پورا کرنے کے بعد میرے گھر میں ایک پیسہ بھی نہیں سارا مہینہ ہی قرض پر گزارنا ہے۔“ (الفضل 18 نومبر 1940ء) تقسیم ہند و پاک کے وقت مسلمانوں کو بے انتہا جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوا۔اس کے باوجود مجاہدین جماعت نے نہایت جرات مندانہ اور جذبہ قربانی سے سرشار نمونہ پیش کئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس ضمن میں یہ ارشادات فرمائے۔ا جالندھر کی ایک احمدی عورت میرے پاس آئی اور اس نے بتایا کہ ان 24