قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 18 of 81

قربانی کا سفر — Page 18

66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔“ لنگر خانے کے ضمن میں ایک واقعہ پہلے بیان ہوا ہے۔یہ دوسرا واقعہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔جب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (انہوں) نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوئی سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوے کا شخص جھوٹا نہیں ہوسکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے۔اور ان کی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لیے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ ہر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ پیسہ کی ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اس دن ان کو تنخواہ قریباً 450 روپے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ رقم گھر کی ضرورت کے لیے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لیے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لیے رکھ سکتا ہوں۔“ ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1926ء ) ( انوار العلوم جلد 9 ص 403) ابتدائی مجاہدین کی قربانیاں 18