تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 44

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة القلم میں فرمایا ہے اِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ تو خلقِ عظیم پر ہے۔اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ در محت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائلِ حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کا ملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی سے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔( براہین احمد یه روحانی چهار صص، خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اس جگہ بہتر ہوگا کہ میں خلق کے لفظ کی بھی کسی قدر تعریف کردوں۔سو جاننا چاہئے کہ خلق خا کی فتح سے ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق خا کے ضمہ سے باطنی پیدائش کا نام ہے۔اور چونکہ باطنی پیدائش اخلاق سے ہی کمال کو پہنچتی ہے نہ صرف طبعی جذبات سے۔اس لئے اخلاق پر ہی یہ لفظ بولا گیا ہے طبعی جذبات پر نہیں بولا گیا۔اور پھر یہ بات بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں کہ خلق صرف حلیمی اور نرمی اور انکسا رہی کا نام ہے یہ ان کی غلطی ہے بلکہ جو کچھ بمقابلہ ظاہری اعضاء کے باطن میں انسانی کمالات کی کیفیتیں رکھی گئی ہیں ان سب کیفیتوں کا نام خلق ہے۔مثلاً انسان آنکھ سے روتا ہے اور اس کے مقابل پر دل میں ایک قوت رقت ہے وہ جب بذریعہ عقل خداداد کے اپنے محل پر مستعمل ہو تو وہ ایک خُلق ہے۔ایسا ہی انسان ہاتھوں سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو شجاعت کہتے ہیں۔جب انسان محل پر اور موقع کے لحاظ سے اس قوت کو استعمال میں لاتا ہے تو اس کا نام بھی خُلق ہے۔اور ایسا ہی انسان کبھی ہاتھوں کے ذریعہ سے مظلوموں کو ظالموں سے بچانا چاہتا ہے یا ناداروں اور بھوکوں کو کچھ دینا چاہتا ہے یا کسی اور طرح سے بنی نوع کی خدمت کرنا چاہتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو رحم بولتے ہیں اور کبھی انسان اپنے ہاتھوں کے ذریعہ سے ظالم کو سزا دیتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو انتقام کہتے ہیں اور کبھی انسان حملہ کے مقابل پر حملہ کرنا نہیں چاہتا اور ظالم کے ظلم سے در گزر کرتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو عفو اور صبر کہتے ہیں اور کبھی انسان بنی نوع کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کام لیتا ہے یا پیروں سے یا دل اور دماغ سے اور ان کی بہبودی کے لیے اپنا سرمایہ خرچ کرتا ہے تو اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو سخاوت کہتے ہیں۔پس جب انسان ان تمام قوتوں کو موقع اور محل کے لحاظ سے