تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 43
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة القلم کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے۔سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی۔نہ کوئی بارگاہ طیار ہوئی۔بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح تھی۔اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔اور کھانے کے لئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا۔اور ہمیشہ فقر کوتو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا۔خالصاً خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔غرض مجود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں۔وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام میں اس قسم کے اخلاق بھی اچھی طرح ثابت نہیں ہوئے۔کیونکہ یہ سب اخلاق بجز زمانہ اقتدار اور دولت کے یہ پایہ ثبوت نہیں پہنچ سکتے اور مسیح نے اقتدار اور دولت کا زمانہ نہیں پایا۔اس لئے دونوں قسم کے اخلاق اس کے زیر پردہ رہے اور جیسا کہ شرط ہی ظہور پذیر نہ ہوئی۔پس یہ اعتراض مذکورہ بالا جو سیح کی ناقص حالت پر وارد ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل حالت سے بنکلی مندفع ہو گیا۔کیونکہ وجود با جود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر یک نبی کے لئے متم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔وہ چمک اٹھا۔اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کر کے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجود پرختم ہو گئے۔وھذا فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ - ( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۷۷ تا ۲۹۲ حاشیه ) جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔اور قرآن نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق