تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 37
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة الملك لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا في اصحب الشعیر سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع اور عقل انسان کو ایمان کے واسطے جلد تیار کر دیتی ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۴۶) اَو لَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ طَفْتِ وَ يَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْ ءٍ بَصِيرٌ (٢٠ کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ بازو کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں رحمن ہی ہے کہ ان کو گرنے سے تھام رکھتا ہے یعنی فیضان رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہورہا ہے کہ پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر ر ہے ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۵۰،۴۴۹ حاشیہ نمبر ۱۱) وَ يَقُولُونَ مَتى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ص کا فر پوچھتے ہیں کہ یہ دعوئی پورا کب ہوگا۔اگر تم سچے ہو تو تاریخ عذاب بتاؤ۔ان کو کہہ دے مجھے کوئی تاریخ معلوم نہیں۔یہ علم خدا کو ہے میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۳)