تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 33
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣ سورة الملك اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الملك بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ ودو الغفور دنیا کی کامیابیاں ابتلا سے خالی نہیں ہوتی ہیں۔قرآن شریف میں آیا ہے خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ ہم تمہیں آزمائیں، کامیابی اور نا کامی بھی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خبر پہنچتی ہے تو اس میں جان پڑ جاتی ہے اور گو یا نئی زندگی ملتی ہے اور اگر نا کامی کی خبر آجائے تو زندہ ہی مرجاتا ہے اور بسا اوقات بہت سے کمزور دل آدمی ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔انحام جلد ۵ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۱ صفحه اول ) وَ لَقَد زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَهَا رُجُومًا لِلشَّيطِيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ۔ہم نے سماء الدنیا کوستاروں کے ساتھ زینت دی ہے اور ستاروں کو ہم نے رجم شیاطین کے لیے ذریعہ ٹھہرایا ہے اور پہلے اس سے نص قرآنی سے ثابت ہو چکا ہے کہ آسمان سے زمین تک ہر یک امر کے مقسم اور مدبر