تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التحريم پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کے لئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے مگر یہ تمام وسائط خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک کل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف۔جس طرح ہوا خدا تعالی کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے باہر آتی ہے اور اسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے یہی صورت اور بنتامہ یہی حال فرشتوں کا ب يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۷،۸۶ حاشیه ) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبِّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُم وَيُدخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهُرُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا آتْهِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ جو لوگ دنیا میں ایمان کا نور رکھتے ہیں ان کا نور قیامت کو ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا ، وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ اے خدا ہمارے نور کو کمال تک پہنچا اور اپنی مغفرت کے اندر ہمیں لے لے۔تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا۔یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہوگا۔پھر دوسرا اکمال نظر آئے گا۔اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے۔پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجا کریں گے اور جب وہ حاصل ہوگا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظاہر ہوگا۔پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو بیچ سمجھیں گے۔اور اس کی خواہش کریں گے۔یہی ترقیات کی خواہش ہے جو انجمند کے لفظ سے سبھی جاتی ہے۔غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا۔تنزل کبھی نہیں ہوگا اور نہ کبھی بہشت سے نکالے جائیں گے۔بلکہ ہر روز آگے بڑھیں گے اور پیچھے نہ ہٹیں گے اور یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ اپنی مغفرت چاہیں گے۔اس جگہ سوال یہ ہے کہ جب بہشت میں داخل ہو گئے تو پھر مغفرت میں کیا کسر رہ گئی اور جب گناہ بخشے گئے تو پھر استغفار کی کون سی حاجت رہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کے اصل معنی یہ ہیں۔نا ملائم اور ناقص حالت کو نیچے دبانا اور ڈھانکنا۔سو بہشتی اس بات کی خواہش کریں گے کہ کمال تام حاصل کریں اور سراسر