تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 423

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۳ سورة الفلق پرورشیں ہیں۔رب یعنی پرورش کنندہ وہی ہے۔اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہوتی حتی کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں۔دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ جو رعایا پر انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں۔سب کی پرورشیں اسی کی ہی پرورشیں ہیں۔بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے کہ فلاں نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام فلاں بادشاہ نے کر دیا۔وغیرہ وغیرہ۔یا د رکھو ایسا کہنے والے کا فر ہوتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ کا فرنہ بنے۔اور مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔انسان کو اس کا دوست ذرہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو۔اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ کا رحم ہونا ضروری ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں۔جب تک خدا تعالیٰ کی پرورش نہ تو کوئی پرورش نہیں کر سکتا۔دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔طاعون کے مرض کی طرف غور کروسب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اس کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۴ مورخه ۳/ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۶،۱۸۵) غاسق عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اول رات چاند کو ہوتی ہے اور اسی لئے یہ لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جبکہ اس کا نور جاتا رہتا ہے اور خسوف کی حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن شریف میں مِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کے یہ معنے ہیں مِنْ شَرِ ظُلْمَةٍ إِذَا دَخَلَ یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۴۳) مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقع پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اور دوسری جگہ الشقون الأولون۔اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے۔سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ