تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 348
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة التكاثر میں احتمال کذب کا ہوتا ہے لیکن یقین میں ایک سچائی کی روشنی ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ یقین کے بھی مدارج ہیں۔ایک علم الیقین ہوتا ہے پھر عین الیقین اور تیسرا حق الیقین۔جیسے دور سے کوئی آدمی دھواں دیکھتا ہے تو وہ - تو آگ کا یقین کرتا ہے اور یہ علم الیقین ہے اور جب جا کر دیکھتا ہے تو وہ عین الیقین ہے اور جب ہاتھ ڈال کر دیکھتا ہے کہ وہ جلاتی ہے تو وہ حق الیقین ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲) وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔علم الیقین ، عین الیقین حق الیقین اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہوگا کہ وہاں آگ ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام لازم علم الیقین ہے مگر اور نزدیک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں۔پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر رکھ کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی دیکھ لیوے تو اسے کوئی شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا اور اس طرح سے جو علم اسے حاصل ہو گا اس کا نام حق الیقین ہوگا۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۷)