تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 347

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة التكاثر نہایت چھوٹا معلوم ہوتا ہے مگر وہی چہرہ ایک بڑے شیشہ میں بڑا دکھائی دیتا ہے مگر شیشہ خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا چہرہ کے تمام اعضاء اور نقوش دکھا دیتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ چھوٹا شیشہ پورا مقدار چہرہ کا دکھلانہیں سکتا۔سو جس طرح چھوٹے اور بڑے شیشہ میں یہ کمی بیشی پائی جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات اگر چہ قدیم اور غیر متبدل ہے مگر انسانی استعداد کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس قدر فرق نمودار ہو جاتے ہیں کہ گو یا اظہار صفات کے لحاظ سے جو زید کا خدا ہے اُس سے بڑھ کر وہ خدا ہے جو بکر کا خدا ہے اور اس سے بڑھ کر وہ جو خالد کا خدا ہے مگر خدا تین نہیں خدا ایک ہی ہے صرف تجلیات مختلفہ کی وجہ سے اس کی شانیں مختلف طور پر ظاہر ہوتی ہیں جیسا کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ایک ہی ہے تین خدا نہیں ہیں مگر مختلف تجلیات کی رو سے اُسی ایک خدا میں تین شانیں ظاہر ہو گئیں چونکہ موسیٰ کی ہمت صرف بنی اسرائیل اور فرعون تک ہی محدود تھی اس لئے موسیٰ پر تجلی قدرت الہی اُسی حد تک محدودر ہی اور اگر موسیٰ کی نظر اُس زمانہ اور آئندہ زمانوں کے تمام بنی آدم پر ہوتی تو توریت کی تعلیم بھی ایسی محدود اور ناقص نہ ہوتی جواب ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲ تا ۲۹) خدا نے پہلے سے ارادہ کر رکھا ہے کہ جو متقی ہو اور خدا کی منشاء کے مطابق ہے تو وہ ان مراتب کو حاصل کر سکے جو انبیاء اور اصفیاء کو حاصل ہوتے ہیں۔اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کو بہت سے قومی ملے ہیں جنہوں نے نشو و نما پانا ہے اور بہت ترقی کرنا ہے۔ہاں ایک بکرا چونکہ انسان نہیں اس کے قومی ترقی نہیں کر سکتے۔عالی ہمت انسان جب رسولوں اور انبیاء کے حالات سنتا ہے تو چاہتا ہے کہ وہ انعامات جو اس پاک جماعت کو حاصل ہوئے اس پر نہ صرف ایمان ہی ہو بلکہ اسے بتدریج ان نعماء کاعلم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین ہو جاوے۔علم کے تین مدارج ہیں علم الیقین، عین الیقین حق الیقین۔مثلاً ایک جگہ دھواں نکلتا دیکھ کر آگ کا یقین کر لین علم الیقین ہے لیکن خود آنکھ سے آگ کا دیکھنا عین الیقین ہے۔ان سے بڑھ کر درجہ حق الیقین کا ہے یعنی آگ میں ہاتھ ڈال کر جلن اور حرقت سے یقین کر لینا کہ آگ موجود ہے۔پس کیسا وہ شخص بدقسمت ہے جس کو تینوں میں سے کوئی درجہ حاصل نہیں۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۸) وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں جو ایک ہی دن میں حق الیقین کے درجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔یا درکھو کہ ایک ظن ہوتا ہے اور ایک یقین۔ظن صرف خیالی بات ہوتی ہے اس کی صحت اور سچائی پر کوئی حکم نہیں ہوتا بلکہ اس