تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 319
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۳۱۹ سورة البينة بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة البينة بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اَهْلِ الْكِتَب وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَيِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ لا رَسُولٌ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً كُ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ۔جو لوگ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کا فر ہو گئے ہیں یعنی کفر پر سخت اصرار اختیار کر لیا ہے وہ اپنے کفر سے بجز اس کے باز آنے والے نہیں تھے کہ ان کو کھلی نشانی دکھلائی جاتی۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) جولوگ اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہو گئے ان کا راہ راست پر آنا بجز اس کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ان کی طرف ایسا عظیم الشان نبی بھیجا جاوے جو ایسی عظیم الشان کتاب لایا ہے کہ جو سب الہی کتابوں کے معارف اور صداقتوں پر محیط اور ہر یک غلطی اور نقصان سے پاک اور منزہ ہے۔اب اس دلیل کا ثبوت دو مقدموں کے ثبوت پر موقوف ہے اول یہ کہ خدائے تعالیٰ کا یہی قانونِ قدیم ہے کہ وہ جسمانی یا روحانی حاجتوں کے وقت مددفرماتا ہے یعنی جسمانی صعوبتوں کے وقت بارش وغیرہ سے اور روحانی صعوبتوں کے وقت اپنا شفا بخش کلام نازل کرنے سے عاجز بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔سو یہ مقدمہ بدیہی الصداقت ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس سے انکار نہیں کہ یہ دونوں سلسلے روحانی اور جسمانی