تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 317
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۷ سورة القدر کمال کو پہنچتا ہے تو پھر وہ گھٹنا شروع ہوتا ہے جیسے کہ چاند کو دیکھتے ہو اور اسی طرح سے یہ قیامت تک رہے گا کہ ایک وقت نور کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ظلمت کا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۳، ۴) قرآن شریف میں جو لیلتہ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے یہاں لیلتہ القدر کے تین معنی ہیں اول تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلتہ القدر کی ہوتی ہے دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلتہ القدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے زمانہ میں وہ آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں۔سوم لیلتہ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفی ہے۔تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو کہتے کہ ارخنَا يَا عَائِشَةُ یعنی اے عائشہ مجھے کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے ؎ وقتے چنیں بودے کہ بجبرائیل و میکائیل پرداخته و دیگر وقت با حفصه و زینب در ساختے جنتنا جتنا انسان خدا کے قریب آتا ہے یہ وقت اسے زیادہ میسر آتا ہے۔(احکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱/اگست ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳، ۱۴) جب آسمان سے مقرر ہو کر ایک نبی یا رسول آتا ہے تو اس نبی کی برکت سے عام طور پر ایک نور حسب مراتب استعدادات آسمان سے نازل ہوتا ہے اور انتشار روحانیت ظہور میں آتا ہے تب ہر ایک شخص خوابوں کے دیکھنے میں ترقی کرتا ہے اور الہام کی استعداد رکھنے والے الہام پاتے ہیں اور روحانی امور میں عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں کیونکہ جیسا کہ جب بارش ہوتی ہے ہر ایک زمین کچھ نہ کچھ اس سے حصہ لیتی ہے ایسا ہی اس وقت ہوتا ہے جب رسول کے بھیجنے سے بہار کا زمانہ آتا ہے تب ان ساری برکتوں کا موجب دراصل وہ رسول ہوتا ہے اور جس قدر لوگوں کو خوا ہیں یا الہام ہوتے ہیں دراصل ان کے کھلنے کا دروازہ وہ رسول ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ دنیا میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور آسمان سے عام طور پر ایک روشنی اترتی ہے جس سے ہر ایک شخص حسب استعداد حصہ لیتا ہے وہی روشنی خواب اور الہام کا موجب ہو جاتی ہر می لیتا اور ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ میرے ہنر سے ایسا ہوا ہے مگر وہ چشمہ الہام اور خواب کا صرف اس نبی کی برکت سے دنیا پر کھولا جاتا ہے اور اس کا زمانہ ایک لیلتہ القدر کا زمانہ ہوتا ہے جس میں فرشتے اترتے ہیں