تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 305
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة القدر پہنچ گئی تھی خارجی طور پر ایک رات میں مقرر کیا اور یہ رات وہ رات تھی جس میں خداوند تعالیٰ نے دنیا کو کمال ضلالت میں پا کر اپنے پاک کلام کو اپنے نبی پر اتارنا ارادہ فرمایا۔سو اس جہت سے نہایت درجہ کی برکات اس رات میں پیدا ہو گئیں یا یوں کہو کہ قدیم سے اسی ارادہ قدیم کے رو سے پیدا تھی اور پھر اُس خاص رات میں وہ قبولیت اور برکت ہمیشہ کے لئے باقی رہی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ وہ ظلمت کا وقت کہ جو اندھیری رات سے مشابہ تھا جس کی تنویر کے لئے کلام الہی کا نورا ترا اُس میں بباعث نزولِ قرآن کی ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر بنائی گئی۔اور اگر معقولی طور پر نظر کریں تب بھی ظاہر ہے کہ ضلالت کا زمانہ عبادت اور طاعت الہی کے لئے دوسرے زمانہ سے زیادہ تر موجب قربت و ثواب ہے پس وہ دوسرے زمانوں سے زیادہ تر افضل ہے اور اس کی عبادتیں باعث شدت وصعوبت اپنی قبولیت سے قریب ہیں اور اس زمانہ کے عابد رحمت الہی کے زیادہ تر مستحق ہیں کیونکہ بچے عابدوں اور ایمانداروں کا مرتبہ ایسے ہی وقت میں عند اللہ تحقیق ہوتا ہے کہ جب تمام زمانہ پر دنیا پرستی کی ظلمت طاری ہو اور بیچ کی طرف نظر ڈالنے سے جان جانے کا اندیشہ ہو اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب دل افسردہ اور مردہ ہو جا ئیں اور سب کسی کو جیفہ دنیا ہی پیارا دکھائی دیتا ہو اور ہر طرف اس روحانی موت کی زہرناک ہوا چل رہی ہو اور محبت الہیہ یک لخت دلوں سے اٹھ گئی ہو اور رو بحق ہونے میں اور وفادار بندہ بننے میں کئی نوع کے ضرر متصورہوں نہ کوئی اس راہ کار فیق نظر آوے اور نہ کوئی اس طریق کا ہمدم ملے بلکہ اس راہ کی خواہش کرنے والے پر موت تک پہنچانے والی مصیبتیں دکھائی دیں اور لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر ٹھہرتا ہو تو ایسے وقت میں ثابت قدم ہو کر اپنے محبوب حقیقی کی طرف رخ کر لینا اور ناہموار عزیزوں اور دوستوں اور خویشوں اور اقارب کی رفاقت چھوڑ دینا اور غربت اور بے کسی اور تنہائی کی تکلیفوں کو اپنے سر پر قبول کر لینا اور دکھ پانے اور ذلیل ہونے اور مرنے کی کچھ پرواہ نہ کرنا حقیقت میں ایسا کام ہے کہ بجز اولو العزم مرسلوں اور نبیوں اور صدیقوں کے جن پر فضل احدیت کی بارشیں ہوتی ہیں اور جو اپنے محبوب کی طرف بلا اختیار کھینچے جاتے ہیں اور کسی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا اور حقیقت میں ایسے وقت کی ثابت قدمی اور صبر اور عبادت الہی کا ثواب بھی وہ ملتا ہے کہ جو کسی دوسرے وقت میں ہر گز نہیں مل سکتا۔سواسی جہت سے لیلۃ القدر کی ایسے ہی زمانہ میں بناڈالی گئی کہ جس میں بباعث سخت ضلالت کے نیکی پر قائم ہونا کسی بڑے جوانمرد کا کام تھا یہی زمانہ ہے جس میں جوانمردوں کی قدر و منزلت ظاہر ہوتی ہے اور نا مردوں کی ذلت بہ پایہ ثبوت پہنچتی ہے یہی پر ظلمت زمانہ ہے جو اندھیری رات کی طرح ایک خوفناک صورت میں ظاہر ہوتا